نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

خاموشی ۔۔۔طاقت کی علامت

 ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا. یونانی فلسفی افلاطون نے 2 ہزار سال سے زیادہ عرصہ پہلے کہا تھا کہ احمق کچھ کہنے کے لئے بولتے ہیں جب کہ دانا تب بولتے ہیں جب ان کے پاس کہنے کو کچھ ہو. کیا آپ نے کبھی سوچا کہ عام طور پر خاموش رہنے والے لوگ دنیا میں اس قدر کیوں کامیاب ہیں؟ ماہرین کا ایک نظریہ جو انسانوں کو شخصی بنیادوں پر 2 اقسام میں تقسیم کرتا ہے کہ جس کی بنیاد پر وہ کامیابی کے لئے درکار توانائی حاصل کرتے ہیں۔ ایک قسم کے انسان وہ کہ جنہیں عام طور پر باہر رہنے اور اور دوست احباب اور سبھی جاننے والوں میں گھرا رہنے رابطے میں رہنے اور گفتگو اور مسلسل بحث مباحثہ کی عادت سے توانائی ملتی ہے انہیں' ایکسٹروورٹ 'کہا جاتا ہے جبکہ جنہیں عام طور پر خاموش رہنا اور اپنا زیادہ تر وقت خود اپنے ساتھ گذارنا توانائی بخشتا ہو ایسے لوگ 'انٹروورٹ 'کہلاتے  ہیں۔ اب سوال ذہن میں آتا ہے کہ یہاں ایکسٹرورٹ ' یا ' انٹروورٹ ' ہونا کیوں کر کسی کو کامیابی کے ساتھ جوڑتا ہے؟ ایکسٹراورٹ  لوگ  اکثر بطور ماہر فرد خاص طور پر ان فیلڈز سے وابستہ ہوتے ہیں جہاں زیادہ بولنے اور نیٹ ورک...

کسی کا عشق کسی کا خیال تھے ہم بھی

 کسی کا عشق کسی کا خیال تھے ہم بھی

گئے دنوں میں  بہت باکمال  تھے ہم  بھی

ہماری  کھوج  میں رہتی تھیں تتلیاں اکثر

کہ اپنے شہر کے سن و سال تھے  ہم بھی

زندگی کی گود میں سر رکھ کے سو گئے آخر 

تمھارے عشق میں کتنے نڈھال تھے ہم بھی

ضرورتوں   نے  ہمارا   ضمیر    چاٹ     لیا

وگرنہ   قائل   رزق   حلال  تھے  ہم  بھی

ہم عکس عکس بکھرتے رہے اسی دھن میں

کہ زندگی میں کبھی لازوال تھے ہم بھی

پروین شاکر 

       

हिंदी अनुवाद


किसी का प्यार, किसी का विचार, हम भी
अतीत में, हम भी बहुत समृद्ध थे
तितलियाँ अक्सर हमारी तलाश में रहती थीं
कि हम अपने शहर के वर्ष थे
मैं अपनी गोद में सिर रखकर सो गया
हम आपके प्यार में कितने कमजोर थे
जरूरतें हमारे विवेक को चाट गई
अन्यथा, जीविका के लिए आश्वस्त करना हमारे लिए भी उचित था
हम एक ही धुन में चिंतन करते रहे
कि हम जीवन में कभी भी अमर थे


परवीन शाकि

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں

Sharing of any types of Links and sectarian , communal, blasphemous, hateful comments is strictly prohibited.

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تربیت صرف بیٹی کی اور بیٹا۔۔۔؟؟

Who Will Train my Son?   سانحہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر پوری قوم شدید  صدمہ اور اضطرابی کیفیت میں ہے. اظہار افسوس کے لیے الفاظ بھی شرمندہ شرمندہ سے لگنے لگے ہیں مگر قابل غور بات اس اندوہ  ناک واقعہ پر پوری قوم کی طرف سے اس طرح کے ردعمل کا آنا ہے گویا کچھ بالکل نیا ہوا ہے. معصوم بچوں کی آنکھوں کے سامنے ماں کی اجتماعی آبروریزی بلاشبہ شیطانیت کی آخری سطح کا بدترین مظاہرہ ہے مگر واقعہ میں ملوث انہی ملزمان کی جانب سے سنہ 2013 میں دوران ڈکیتی ماں بیٹی کی آبروریزی, اس سے قبل سرپنچوں کے حکم پر بھری پنچایت کے سامنے مختاراں مائی کے ساتھ برتی گئ حیوانیت اور اس سے قبل کراچی کی ضعیف والد کے ساتھ جاتی معصوم سسٹرز کا بعد از اغواء اجتماعی بیحرمتی کے بعد وحشیانہ قتل اور اس سے قبل سانحہ نواب پور اور اس سے پہلے اور بعد  رونماء ہونے والے ایسے اور کتنے سانحات گویا سانحہ موٹروے پاکستانیوں کے لیے کسی بھی طرح سے "حالات حاظرہ" کی خبر نہیں بلکہ یہ تو میرے نزدیک "حالات مستقلہ" ہیں. ہم ایک دائمی سانحے میں جی رہے ہیں جہاں ظالم و مظلوم کے صرف نام اور جائے وقوعہ تبدیل ہوتی ہے مگر ظلم کی داستاں ...

یہ پاکستان ہے فرانس نہیں

      Sorry Mam,Motor way is not in France   دنیا کے مختلف براعظموں اور ملکوں میں پھیلے وہ  لاکھوں افراد جنہیں عرف عام میں اورسیز پاکستانی یا سمندر پار پاکستانی کہا جاتا ہے میری نظر میں بڑی عجیب و غریب مخلوق ہیں. یہ لوگ اپنی تعلیم ہنر اور قابلیت کی بنیاد پر ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اپنا گھر محلہ گاؤں شہر اور ملک چھوڑ کر پردیس جاتے ہیں ان کی جدائی کادرد سہتے ہیں. اپنے رسوم و رواج ماحول معاشرت سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں اور بالکل مختلف رسوم و روایات زبان تہذیب اور بودوباش  کے درمیان بادل نخواستہ زندگیاں گذارتے ہیں. ذرا سوچئے کیا اتنی بڑی قربانی کیا صرف پیسہ کمانے کے لیے دی جا رہی ہوتی ہے؟ اتنی بڑی قیمت کیا صرف معاشی منفعت کے حصول کے لیے ادا کی جارہی ہوتی ہے؟ کیا ان کا اپنا وہ ملک جہاں بیرون ملک سے لوگ پیسہ کمانے آتے ہیں معاشی اعتبار سے اتنا بانجھ ہوسکتا ہے کہ خود اپنے شہریوں کو خاطرخواہ روزگار نہ مہیاء کرسکے.پاکستان میں  جہاں سعودی, چینی, ترک اور ملائشین بلینز میں سرمایہ کاری کر رہے ہوں اور افغان ایرانی بنگلہ دیشی شہری کامیابی سے کاروبار اور ملازمت کرتے ہ...

خاموشی ۔۔۔طاقت کی علامت

 ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا. یونانی فلسفی افلاطون نے 2 ہزار سال سے زیادہ عرصہ پہلے کہا تھا کہ احمق کچھ کہنے کے لئے بولتے ہیں جب کہ دانا تب بولتے ہیں جب ان کے پاس کہنے کو کچھ ہو. کیا آپ نے کبھی سوچا کہ عام طور پر خاموش رہنے والے لوگ دنیا میں اس قدر کیوں کامیاب ہیں؟ ماہرین کا ایک نظریہ جو انسانوں کو شخصی بنیادوں پر 2 اقسام میں تقسیم کرتا ہے کہ جس کی بنیاد پر وہ کامیابی کے لئے درکار توانائی حاصل کرتے ہیں۔ ایک قسم کے انسان وہ کہ جنہیں عام طور پر باہر رہنے اور اور دوست احباب اور سبھی جاننے والوں میں گھرا رہنے رابطے میں رہنے اور گفتگو اور مسلسل بحث مباحثہ کی عادت سے توانائی ملتی ہے انہیں' ایکسٹروورٹ 'کہا جاتا ہے جبکہ جنہیں عام طور پر خاموش رہنا اور اپنا زیادہ تر وقت خود اپنے ساتھ گذارنا توانائی بخشتا ہو ایسے لوگ 'انٹروورٹ 'کہلاتے  ہیں۔ اب سوال ذہن میں آتا ہے کہ یہاں ایکسٹرورٹ ' یا ' انٹروورٹ ' ہونا کیوں کر کسی کو کامیابی کے ساتھ جوڑتا ہے؟ ایکسٹراورٹ  لوگ  اکثر بطور ماہر فرد خاص طور پر ان فیلڈز سے وابستہ ہوتے ہیں جہاں زیادہ بولنے اور نیٹ ورک...

بحث و تکرار _____ آپ کی اصل ہار

 مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر کے حوالے سے ایک بڑا مشہور واقعہ ہم میں سے اکثریت کے مطالعہ سے گذرا ہوگا کہ ایک بار وہ کلام الہی کی کتابت میں مشغول تھا کہ پاس موجود ایک مہمان نے اس کی لکھی ایک آیت غلط قرار دے کر اسے دوبارہ درست لکھنے کے لیے کہا. شہنشاہ اورنگ زیب عالم گیر نے اول اول اپنی لکھی آیت کو درست قرار دیا جس پر مہمان نے بضد ہو کر اس آیت قرآنی پر اپنے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے اسے دوبارہ ٹھیک طرح سے لکھنے کا مشورہ دوہرایا.  اس بار اورنگ زیب نے وہ آیت مٹا کر مہمان کی تجویز کے مطابق دوبارہ تحریر کردی جس پر مہمان کے چہرے پر طمانیت کے آثار نمایاں ہوگئے اور اس کا رویہ شہنشاہ کی جانب خوش گوار ہوگیا. کچھ دیر بعد جب وہ مہمان رخصت ہوا تو اورنگ زیب نے اس کے مشورے کے مطابق لکھی آیت کو مٹا کر دوبارہ اسی طرح تحریر کردی جس طرح اس نے پہلے تحریر کی تھی. مصاحبین نے حیران ہو کر دریافت کیا جہاں پناہ آپ نے تو اس شخص کے کہے کو درست تسلیم کر کے آیت تبدیل کی تھی تو اب آپ نے دوبارہ اس طرح کیوں تحریر کی جسے آپ غلط مان چکے تھے. شہنشاہ اورنگ زیب نے مسکرا کر جواب دیا کہ میں جانتا تھا کہ درست آیت وہ...